गुरुवार, 24 अक्टूबर 2024
salgirah mubarak
रविवार, 22 सितंबर 2024
Inquilab ke liye
جو بات کہے وہ کرے
سورہ صف میں الله فرماتا ہے "تم وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں بچے ننھے پودوں کیطرح ہوتے ہیں ان میں احساس زممیداری جگانے کے لئے نصیحتیں کارگرثابت ہوتی ہیں لیکن اگر آپ خود سوشل میڈیا پر گھنٹوں برباد کر رہے ہیں اور بچوں کو سوشل میڈیا پر وقت برباد کرنے سے روک رہے ہیں ،تو آج کی جنریشن اتنی زہین ہیں جو ہر چیز پر غور کرتی ہیں خود کتابیں پڑھے خود نماز کی پابندی کرے گھر کے کام میں حصّہ لیں خود فاسٹ فوڈ سے دور رہے اور پھر بچوں کو بتایں کے کس طرح یہ چیزیں صحت کو برباد کرتی ہے اور ان چیزوں سےدوری بنا کر کتنے پیسوں کی بچت ہو سکتی ہیں - وقت کی پابندی کا احساس کریں اآپ خود روزانہ پابندگی سے مورننگ واک کر رہے ہیں تو انہں بھی اس بات کا احساس ہوگا کے صحت کے لئے یہ کتنا ضروری ہے
شگفتہ راغب شیخ
نیرول (نوی ممبئی )
शुक्रवार, 13 सितंबर 2024
INQILAB ODHNI KE LIYE
اوڑھنی کےلئے
معمر والدیں کے ساتھ وقت گزارنا کیوں ضروری
قرآنی حکم پر عمل
قرآن میں شرک سے بچنے کے بعد سب سے زیادہ جس بات کی نصیحت کی گی ہے وہ ہے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک
بوڑھے والدین کے ساتھ وقت گزار کر ہم انکے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں
انکے غم پریشانیاں شیر کرنے پر انھیں خوشی ملتی ہیں سکوں حاصل ہوتا ہے
اپنے ساتھ تفریح پر لیجانے سے انکی تنہایی دور ہوتی ہے انکا دل بڑا ہوجاتا ہے
انکی دعا ہماری زندگی میں سکوں ،خوشیاں اور طمانیت بھر دیتی ہیں
نواسے نواسیاں ،پوتے پوتیوں سے مل کر انکی خوشیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے
ہم بھی ان سے مل کر صحت کے تعلّق سے اچھے مشورے دے سکتے ہیں
الله ہر کسی کو اپنے بوڑھے والدین کی خدمات کی توفیق عطا کرے --آمین
شگفتہ راغب شیخ
मंगलवार, 3 सितंबर 2024
mubarakbad
مبارکباد
مکرمی
خطیب کوکن جناب علی ایم شمسی صا حب کے سماجی ،فلاحی کاموں اور قوم کی خدمات کے کاموں کا اعتراف کرتے ہوے آپکو کوکوکن مرکنٹائل بینک کی جانب سے "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ " سے نوازا گیا -موصوف کو یشونت راؤ پرتیستان نوی ممبئی کی طرف سے "سپرچول لیڈر " کے خطاب سے بھی کچھ عرصہ پہلے نوازا گیا تھا.آپ نے اپنی عمر کے طویل ٧٠ سال سماجی کاموں کے نظر کے ہیں مرکزفلاح کے تمام ترستیاں اور اہل نوی ممبئی آپکے فلاحی کاموں کو سلام کرتے ہے دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور موصوف کے لئےعمر میں برکت کے لئے دعا کرتے ہیں آمین
راغب احمد /حمید خانزادہ /اوصاف عثمانی /منصور جٹہام /ڈاکٹر شریف
रविवार, 18 अगस्त 2024
Rakhi special
किसी के ज़ख्म पर चाहत की पट्टी कौन बाँधेंगा
अगर बहनें नहीं होंगी तो राखी कौन बाँधेंगा
आप सब को रक्शा बंधन के इस पावन औसर पर ढेर सारी मुबारकबाद
गुरुवार, 8 अगस्त 2024
video game ek lanat
راغب احمد (نیرول نوی ممبئی )
ویڈیو گیم ایک لعنت
الله تعالیٰ فرماتا ہیں "تم میری یاد سے غافل ہوجاوونگے میں تمہں اپنے آپ سے غافل کر دونگا " ویڈیو گیمز کھیلتے کھیلتے ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب آخری اسٹیج پر پہنچ کر یا تو آدمی خود کشی کر لیتا ہے یا کسی اور کا قتل کر دیتا ہے تو کیا یہ اپنے آپ سے غافل ہونا نہیں ہے ؟
ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت کا کام موبائل کر رہا ہے بچہ کھانا نہیں کھا رہا ہے ماں اسکے ہاتھ میں موبائل تھما کارٹون لگا کر موبائل تھما دیتی ہے بچہ ضد کر رہا ہے موبائل اسکا علاج ہوجاتا ہے ہمیں پھر پتا نہیں چلتا بچہ کیا کھا رہا ہے کتنا کھا رہا ہےماں اسکےمو میں نوالے ٹھوستی رہتی ہے نتیجہ کھانا جسم کو نہیں لگتا یا اسے بعد میں بد ہضمی ہوجاتی ہے -ایک زمانہ تھا ماں بڑے لاڈ سے شیر کا نوالہ بکری کا ننوالہ اور ہمارے منے کا نوالہ کہ کر کھانا کھلاتی تھی نانا نانی دادا دادی چچی پورے خاندان کابچے پر دھیان ہوتا تھا یہاں تک محلے والے بھی کدی نظر رکھتے تھے آج کے زمانے میں خاندان ایک ساتھ کم ہی کھانا کھاتے ہیں ایک دوسرے کی پریشانی جاننے کے لئے بھی و قت نہیں ہوتا بچے فرسٹریٹ ہوکر اپنے آپ کو سوشل میڈیا ویڈیو گیمز میں مصروف ہوکر اپنا سکوں حاصل کر لیتے ہیں
ویڈیو گیمز کی عادت چھڑانے کے لئے ضروری ہے کے بچوں کے ساتھ وقت بتایا جایا -انہں اچھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی جائے -فزیکل گیمز کھیلنے پر اکسایا جائے اور نماز کو مسجد ساتھ لیکر جانے کی کوشش کی جائے اور یہ کام اتنا آسان نہیں ہے اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اگر پھر بھی بچے میں تبدیلی نے دیکھن تو کسی اچھے سیکا ٹرسٹ کو کنسلٹ کرنا چاہیے
गुरुवार, 25 जुलाई 2024
Ayeshah Shirazi
आयेशा शिराज़ी हमारे खानदान की माशाल्लाह तीसरी पीड़ी (Generation ) से ताल्लुक़ रखती है। शारिक और इरम शिराज़ी की औलाद है। शिराज़ी खानदान अमेरिका में रिहाइश पज़ीर हैं। आयेशा की पैदाइश अमेरिका में हुयी और वही तालीम हासिल कर रही है। जब १० साल के बच्चे मोबाइल और गेम्स में मसरूफ दिखाई पड़ते हैं ,अपना क़ीमती वक़्त बर्बाद करते हैं इतनी छोटी उम्र में आयशा की बेहतरीन तहरीर (write up ) पढ़ कर दिल खुश होगया। कहा जाता है इस्लाम इंशाल्लाह अमेरिका से ज़िंदा (resurrect ) होगा इस का ज़िंदा सबूत आयेशा जैसे बच्चे हैं।
आज के दौर की सब से बड़ी tragedy है हालत से मासूसी। और उस का solution है सब्र और अल्लाह की ज़ात पर दिल की गहराइयों से यक़ीन। आयेशा अगर इंडिया में होती तो में उसे ज़रूर इनाम (prize ) से नवाज़ता ,लेकिन हमारी दुवायें और नेक ख़्वाहिशात आयेशा के साथ हैं। शारिक शीराज़ी और इरम शिराज़ी को भी मुबारकबाद उनोहने अपनी औलाद की तरबियत पर सही तवज्जेह दी।
आयेशा से request है future में भी इसी तरह अपने बेहतरीन ख्यालात से हम सब को फायदा पहुंचाती रहूंगी। अल्लाह आप को उम्र दराज़ नसीब करें।
Ayshah Shirazi:
Ayesha Shirazi write up below
There will be many challenges in our lives where an immense amount of stress will be on us. In Islam, these challenges are here to test us and to see how well we would handle it. It is not always easy. But as Muslims, we should always have patience and faith that Allah SWT will help. We should make Dua and seek guidance during these hard times. No matter how hard the challenge is; if you have a positive mindset, then you will get a reward for your patience.
Thursday, July 25, 2024 Ayeshah Shirazi
Ayesha Shirazi belongs to the third generation of our family. She is the daughter of Shariq and Iram Shirazi. The Shirazi family is a resident of America. Ayesha was born in America and is receiving her education there. When 10 year old children are seen busy in mobile phones and games, wasting their precious time. It made my heart happy to read Ayesha's excellent write up at such a young age. It is said that Islam will resurrect from America Inshallah, children like Ayesha are the living proof of this.
The biggest tragedy of today's times is poverty. And its solution is patience and faith in the existence of Allah from the depth of the heart. If Ayesha had been in India, I would have definitely honored her with a prize, but our prayers and good wishes are with Ayesha. Congratulations to Shariq Shirazi and Iram Shirazi too, they paid proper attention to the upbringing of their children. It is a request to Ayesha that in the future too, she will continue to benefit us all with her wonderful thoughts. May Allah bless you with a long life.
