सोमवार, 12 अक्टूबर 2026

                                                                               مکافات عمل 

وہ عبدل عزیز کے نیک   ا عمال تھے یا ماں کی دعا یں جو وہ مسلسل زندگی کے بے رحمانا طوفانوں سے بچتا رہا -ہر بار حالات کی سختیوں کا  مقابلہ کرتا رہا -کچھ لوگوں کی  زندگی چھوٹی موٹی پریشانیوں کے بعد آسانی سے گزر جاتی اور کچھ لوگ ہمیشہ حالات کے چکّر میں رہتے ہیں 

                              آدمی جو لیتا ہے آدمی جو دیتا ہیں 

                                                                      زندگی بھر وہ دعا یں پیچھا کرتی ہیں 

      بچپن کا ایک واقع اس کے بڑے بھایئ اسد شیخ نے بیان کیا ،  ایک طوطے کی موت پر عبدل عزیز بہت ملول ہوگیا تھا -اس نے قبر کھودی طوطے کوکفن پہنایا اور  دفن کیا خلوص سے فاتحہ پڑھی تھی - -پھر ٹیکنیکل کورس کرنے کے بعد اس نے  مرچنٹ نیوی میں نوکری جوائن کر لی تھی -ملک ملک گھومتا رہا -پھر نیویورک میں جیکسن ہا یٹ میں اپنا مکان خرید کر نیی زندگی کی شروعات کی -اس زمانے میں بہت کم لوگوں کے گھر فون ہوتا تھا aاپنی فیملی کے پڑوس میں رہنے والے مسٹر مورتی جو شپنگ کارپوریشن میں جنرل مینیجر تھے کے گھر عبدل عزیز فون کرتا تھا  -١٩٨٨ میں یکایک وہ   کہیں غایب ہوگیا  نہ کویی فون نہ کویی خط 

  ماں اور خاندان والے پریشان تھے عبدل عزیز تک پہچنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگیی -اسے زمین کھا گی یا آسمان -گھر والے تمام کوششیں کر خاموش بیٹھ گئے -سن ٢٠٢٠ میں مکمل ٣٢ سال بعد پوسٹ من  ایک خط ڈیلیور کرتا ہے جس میں پتے کے نیچے پوسٹ من کو ایک ریکویسٹ لکھی ہوتی ہے کے وہ یہ خط اسکے گھر تک پہنچا دے -پتے کی جگہ صرف فلیٹ نمبر سوسایٹی کا نام لکھا ہوتا ہے -پوسٹ میں پرانا تھا جو خط پہنچا دیتا ہے -خط میں  عبدل عزیز نے لکھا تھا کے ٣٢ سال پہلے اپنے فلیٹ جو دوسرے فلور پر تھا وہ کسی کی کار پر گرا تھا پھر اسکے بعد اسے کچھ یاد نہیں رہا - کس  نے اسے اسپتال پنہچایا اس طویل عرصے میں وہ کیا کرتا رہا اسے پتہ نہ تھا - کس نے اسے شیلٹر پنہچایا جہاں وہ فلحال مقیم تھا -اس دوران اس کی ماں اپنی یادداشت تک کھو چکی تھی -کیا المیہ تھا بیٹے کے لیے وہ اس قدر دعا کرتی تھی اسے ویڈیو کالنگ پر پہچان نہیں سکی  -ماں کے انتقال کے ٦ ماه بعد اسکی بھی ایک حادثے میں موت ہوگیی موت کی خبر بھی عجب طرح سے خاندان تک پہنچی جو ایک معجزہ ہی لگتا ہے -ان کے پڑوسی مورتی کو میسج دیا جاتا ہے کے عبدل عزیز جس دکان سے اپنا فون ریچارج کرتا تھا اس کے مالک نے بتایا کے عبدل عزیز کی موت ایک حادثے ہوگیی ہے اور ہسپتال کا نام بھی بتایا جہاں اسکی لاش لے جایی گی تھی -ہسپتال سے کنٹیکٹ کرنے پر اسکے خاندان کو بتایا گیا کے اسکی آخری رسومات الیکٹرک کریمٹوریم میں حکومت کی جانب سے ادا کی جاینگی -امریکا میں قبر کی جگہ بہت مہنگی ملتی ہے گھر والوں نے  وہاں کسی  این جی او کو کنٹیکٹ کیا اور ایک مخیّر شخص جو  بمبئ سے تعلق رکھتا تھا اور کسی زمانے میں اسلام جمخانہ کی  جانب سے کرکٹ کھیلتا تھا اور اب امریکا کی شہریت اختیار کر لی تھی  ،دفن کے لئے قبرستان میں  جگہ بھی خریدی اور تدفین بھی  خوش اسلوبی سے ادا کردی -گھر والوں نے اس شخص کو کنٹیکٹ کر شکریہ ادا کیا ،اور اس سے یہ سب کرنے وجہ پوچھی گی اس نے کہا "مجھے ایک نیکی ادا کرنے کا موقع ملا میں نے کر دیا "-انسان کے نیک کاموں کی جزا آخرت میں تو ضرور ملنی ہے کبھی کبھی دنیا میں مل جاتی ہے