سوشل میڈیا سے دوری ضروری
آج سوشل میڈیا کا دور ہے ہر ایک ہاتھ میں موبائل ہے سستا ڈیٹا اویلبل ہے ، وھاٹس اپ ،انسٹگرام ،یو ٹیوب پر چھوٹے چھوٹے ویڈیو ریلس، میسیجز دستیاب ہیں جس میں ہر کسی کو اپنی پسند کا مواد دستیاب ہو جاتا ہے .آج جس طرح لوگ زندگی کے پیچیدہ مسا یل سے جھونجھ رہے ہیں کتابیں پڑھنے کو وقت اور سکوں درکار ہوتا ہے ساتھ ساتھ ذہن پر زور بھی دینا پڑتا ہے .ایک منٹ بیہودہ ریل دیکھ کراور اس کے بعد لگے قہقہ کو سن کر وقتی طور پر ذہنی تسکین ملجاتی ہے ویڈیو گیم کھیل کرایک کک ملتا ہے جسطرح گٹکا تمباکو سے وقتی سکوں ملتا ہے - لیکن کتابیں پڑھنے سے ایک عجیب سکوں ملتا ہے غور خوس کرنے کی عادت ڈیولپ ہوتی ہے اور ان چیزوں کے لئے بچپن ہی سے گھر میں اس طرح کا سازگار ماحول بنانا پڑے گا گھر میں اخبار نویسی اور گھر کے ہر فرد کو کتاب نویسی کی عادت ڈالنی ہونگی گھر میں صحت مند بحث مباحث کا ماحول تییار کرنا ہونگا گھر کے ہر فرد کو سکرین ٹائم کم کرنا ہونگا یعنی سوشل میڈیا سے دوری بنانی ہونگی
مجھے خود نوشت ،خاکے سوا نح حیات پڑھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے -ہمیشہ ٢ یا ٣ کتابیں میرے زیرے مطا لیارہتی ہے مجتبیٰ حسسیں کی تمام کتابیں پڑھ چکا ہوں -ابن صفی میرے پسندیدہ مصنف رہے ہے -پچھلے سال مستنصر تراڑ حسین کی پیار کا پہلا شہر ،جاوید سددیقی کی دو کتابیں روشن دان اور لنگر خانہ ،ندا فاضلی کی کتابیں دیواروں کے بیچ ،دیواروں کے باہر پڑھی اور لطف انداز ہوا اب تو ریختہ سائٹ پر ہزاروں اردو کی کتابیں دستیاب ہیں -میری نظروں میں کتب بینی سب سے بہتر مشغلہ ہے

कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें